Monday, May 22, 2017

Tuesday, December 21, 2010

’شدت پسندی سے مسلمان دور‘


وکی لیکس کے تازہ انکشافات کے مطابق بھارت میں بسنے والے پندرہ کروڑ
مسلمانوں میں سے بیشتر کو شدت پسندی پر کشش نظر نہیں آتی ہے۔
بھارت میں امریکہ کے سابق سفیر ڈیوڈ ملفرذ نے اپنے ایک مراسلے میں لکھا تھا کہ بھارتی جمہوریت، ملک کی ثقافت اور فطری قومیت مسلم سماج کو اپنی طرف لبھاتی ہے۔
اپنے مراسلے میں انہوں نے بھارتی ثقافت کی خوب تعریف بھی کی تھی۔
وکی لیکس کے ان تازہ انکشافات کو برطانوی اخبار گارڈین نے شائع کیا ہے جس کے مطابق ڈیوڈ ملفرڈ نے لکھا تھا کہ علحیدگی پسندی اور مذہبی شدت پسندی بھارتی مسلمانوں پر بہت کم اثر انداز ہوئی ہے اور زیادہ تر مسلمان جدید راستے کو اپناتے ہیں۔
ڈیوڈ ملفرڈ نے اپنے مراسلے میں جو تجزیہ پیش کیا تھا اس کے مطابق بھارت کی معاشی ترقی، پنپتی جمہوریت اور گنگا جمنی تہذیب بھارتی مسلمانوں کو حوصلہ دیتی ہے اور اس سے ان کی علحیدگی پسندی دور ہوتی ہے۔
سابق امریکی سفیر نے لکھا تھا کہ اس ملک میں نا صرف مختلف برادریوں کے لوگ سکون سے ایک ساتھ رہتے ہیں بلکہ مختلف نظریات کے حامل سختگیر لوگ بھی ساتھ میں رہتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ جہاں ایک طرف ہندو، مسلمان اور سکھ برادریوں میں بھی کچھ شدت پسند عناصر ہیں وہیں سیاسی نظریات کے حامل سختگیر بھی ہیں اور ساتھ رہتے ہیں۔
ان کے مطابق سیاسی سطح پر بھارت میں ماؤ نواز اور دائیں بازو کے لوگ سختگیر نظریات کے حامل ہیں۔

وکی لیکس میں سونیاگاندھی کی ذاتی زندگی

سونیاگاندھی

سونیا گاندھی اپنی ذات زندگی کے متعلق خاموش رہتی ہیں

وکی لیکس کے انکشافات کے مطابق بھارت میں حکمراں جماعت کانگریس پارٹی کی صدر سونیا گاندھی کے والدین راجیوگاندھی سے ان کی شادی کے حق میں نہیں تھے۔

اس کے مطابق سونیا گاندھی نے اپنے والدین کی مرضی کے خلاف بھارت کے سابق وزیر اعظم راجیوگاندھی سے شادی کی تھی۔

تازہ انکشافات کے مطابق محترمہ گاندھی نے اس بارے میں کلیفورنیا کے سابق گورنر آرنالڈ شوارزنیگر کی اہلیہ ماریہ شرائیور سے ہوئی ایک ملاقات کے دوران بتایا تھا۔

دلی میں امریکی سفارتخانے کے ایک سینیئر اہل کار نے چار اگست دو ہزار چھ کو لکھےگئے اپنے ایک مراسلے میں اس ملاقات کی تفصیلات واشنگٹن کو بھیجی تھیں۔

وکی لیکس کے ایک کیبل کے مطابق سونیا گاندھی عام طور پر خاموش طبع تصور کی جاتی ہیں اور اپنی ذاتی زندگی کے متعلق زیادہ کھل کر بات نہیں کرتی ہیں لیکن اس ملاقات میں انہوں نے اپنی ذاتی زندگی کے متعلق کھل کر بات کی تھی۔

اس مراسلے میں لکھا گيا تھا کہ محترمہ گاندھی نے سیاسی معاملات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ’بھارت میں دایاں بازو بہت مضبوط ہورہا تھا اور کانگریس کمزور ہورہی تھی۔۔۔ اسی وجہ سے گاندھی خاندان کی وراثت کو بچانے کے لیے مجبور ہوکر انہیں سیاست میں آنا پڑا۔‘

اس کیبل کے مطابق ابتداء میں ان کے سیاست میں آنے کے فیصلے سے ان کے بچے بہت خوش نہیں تھے لیکن بعد میں انہوں نے کہا ’آپ جو بھی فیصلہ کریں گی ہم اس کا ساتھ دیں گے۔‘

وزیراعظم کا عہدہ ٹھکرانے کے متعلق انہوں نے زیادہ کچھ نہیں کہا۔ وکی لیکس کے مطابق ان کا کہنا تھا ’مجھ سے اکثر اس بارے میں پوچھا جاتا ہے لیکن آپ لوگوں سے کہہ سکتی ہیں کسی روز اس پوری کہانی پر میں کتاب لکھوں گی۔‘

محترمہ گاندھ نے کہا کہ کسی دوسرے کے وزیراعظم بننے سے انہیں اچھا لگا اور اس فیصلے پر انہیں کوئی افسوس نہیں ہے۔

ماریہ شرائیور بھارت میں خواتین کے مسئلے پر بات چیت کے لیے آئی تھیں اور تین اگست دو ہزار چھ کو انہوں نے سونیا گاندھی سے ملاقات کی تھی۔

امریکی دستاویزات کے مطابق دلی میں امریکی سفارتکار نے ان کے متعلق جو تجزیہ پیش کیا ہے اس کے مطابق سونیا گاندھی اپنے خاندان کے ساتھ ہوئے حادثات کے بعد اپنی ایک ایسی شخصیت بنائی ہے جو ان کی ذاتی زندگی کو عام ہونے سے باز رکھتی ہے۔

اس کے مطابق سونیا گاندھی جب بھی اپنے شوہر راجیوگاندھی یا ساس اندرا گاندھی کے متعلق بات کرتی ہیں تو اپنے جذبات پر قابو پانے کے لیے انہیں سخت کوشش کرنی پڑتی ہے۔

اس رسالے میں لکھا گیا تھا کہ ’بہت ہی احتیاط سے بنائی گئے بھارتی تشخص کے باوجود ان کی اطالوی شخصیت، ان کی واضح عادتوں، باتوں، رکھا رکھاؤ اور دلچسپیوں میں، جھلکتی ہے۔‘

الفتح تنظیم نے اسرائیل کو حماس پر حملے کی دعوت دی، وکی لیکس


وکی لیکس کے چونکا دینے والے انکشافات کا سلسلہ جاری ہے ، تازہ ترین انکشاف یہ ہوا ہے کہ فلسطین اتھارٹی کے صدر محمود عباس کی تنظیم الفتح نے دو ہزار سات میں اسرائیل سے کہا تھا کہ وہ حماس پر حملہ کر دے۔تیرہ جون دو ہزار سات کو تل ابیب سے امریکی سفارت خانے کو بھیجے گئے مراسلے کے مطابق۔۔اسرائیلی سیکیورٹی ایجنسی کے چیف Yuval Diskin کا کہنا تھا کہ انہوں نے فلسطینی صدر محمودعباس کی سیکیورٹی سروسز سے بہت اچھے تعلقات قائم کرلیے ہیں اور یہ ایجنسیاں تقریبا تمام معلومات اسرائیل کو فراہم کرتی ہیں۔۔ اسرائیلی سیکیورٹی چیف نے امریکی سفیر کو بتایا کہ الفتح کے چند رہنما ان کے پاس آئے تھے۔وہ بہت مایوس ، غیر منظم اور بددل نظر آرہے تھے ۔ انہوں نے زور دیا کہ غزہ میں اسرائیل کو مداخلت کرنی چاہیے وہ ابھی تک حماس پر حملے کے لیے اصرار کر رہے ہیں ۔ تاہم اسرائیلی سیکورٹی چیف نے الفتح کے ان رہنماوٴن کے نام بتانے سے گریز کیا۔مراسلے کے مطابق یوول ڈسکن نے کہاکہ ان کے لیے یہ بالکل نئی صورت حال ہے ، جو اس سے پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں آئی ۔مراسلے کے مطابق اسرائیل کے سیکیورٹی چیف نے امریکا کی جانب سے الفتح کو اسلحہ دینے کی تجویز کی بھی مخالفت کی۔ یوول ڈسکن کا کہنا تھا کہ غزہ پر حماس کا تسلط قائم ہے اور یہ اسلحہ حماس کے ہاتھوں میں بھی پہنچ سکتا ہے۔موجودہ حالات میں فتح کے لیے حماس کو مکمل طور پر ختم کرنا ممکن نہیں ہوگا۔

Thursday, December 9, 2010

امریکی فوجی پاکستانی سرزمین پر


وکی لیکس پر بدھ کو شائع ہونے والے ایک مراسلے میں جو نو اکتوبر سنہ دو ہزار نو کو امریکی وزارت خارجہ کو بھیجا گیا تھا، اس وقت پاکستان میں تعینات امریکی سفیر ڈبلیو این پیٹرسن نے کہا تھا کہ پاکستان فوج نے اجازت دے دی ہے کہ قبائلی علاقوں میں جاری فوجی کارروائی میں امریکی سپیشل فورس پاک فوج کا ساتھ دے۔
اس مراسلے میں کہا گیا ہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ پاکستان فوج نے امریکی فورسز کو اپنے ساتھ کارروائی میں مدد کرنے کی اجازت دی ہے اور اس سے قبل سنہ دو ہزار نو ستمبر میں امریکی سپیشل سروسز کے چار اہلکاروں کو پاکستان کے قبائلی علاقوں میں فرنٹیئر کور کے ساتھ منسلک کیا گیا تھا اور یہ تعاون نہایت کامیاب رہا تھا۔
مراسلے کے مطابق جی ایچ کیو نے امریکی فورسز کو گیارہویں کور کے ساتھ کام کرنے اور پاک فوج کو انٹیلیجنس، نگرانی اور دیگر امور پر مشورے دینے کی اجازت دی۔ یہ فورسز پاک فوج کے ساتھ جنوبی اور شمالی وزیرستان میں تعینات کی گئیں۔
مراسلے میں کہا گیا ہے کہ امریکی سپیشل فورسز پاکستان میں چار سال سے موجود ہیں لیکن سنہ دو ہزار نو سے قبل ان کا کردار تربیتی شعبے میں تھا۔
امریکی سفیر کے مطابق جی ایچ کیو کی جانب سے امریکی سپیشل فورسز کو اجازت ملنے سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ پاکستانی فوج میں امریکی فوج کے حوالے سے سوچ میں تبدیلی آئی ہے۔
امریکی سفیر نے اس مراسلے کے آخر میں لکھا ہے کہ امریکی فوج کی پاکستان فوج کے ساتھ ہونا سیاسی طور پر نہایت حساس ہے اور اگر یہ خبر پاکستانی میڈیا تک پہنچ گئی تو پاکستان فوج یہ اجازت نامہ منسوخ کر دے گی۔